منگل، 26 مارچ، 2019



لقمان حکیم
حضرت لقمان حکیم حضرت ایوب ؑ کے عزیز تھے۔اور یہ حضرت داؤدؑ کے دور میں ہوئے تھے۔ آپ نے چار ہزار پانچ سو سال زندگی دنیا میں  بسر کی آپ کو اللہ نے علم و حکمت  سے مالا مال اور بہرہ ور کیا تھا۔ آپ کا ذکر قرآن مجید میں نمایاں طور پر آیا ہے۔آپ نے اپنے تجربہ کی روشنی میں  بہت سی قیمتی نصیحتیں دنیا والوں کے لیئے کی ہیں۔آپ نے خاص طور پر اپنے بیٹے کو مخاطب رکھا ہے۔ آپ کی نصیحتوں  کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔آپ کی بے شمار نصیحتوں کے شمار میں اختلاف ہے۔بعض علما ء تین ہزار بتاتے ہیں اورصاحب جنات الخلود نے سات ہزار بتایا ہے۔میں نے کتاب معاون الجواہر سے پچاس منتخب نصیحتوں کا خلاصہ آپ کے استفادہ کے لیئے تحریر کیا ہے۔حضرت لقمانؑ اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں:خدا کی معرفت حاصل کرو اسےاچھی طرح پہچانو۔
1۔خدا کی معرفت حاصل کرو اور اسے اچھی طرح پہچانو۔
2۔جو بات کسی سے کہو اس پر خود بھی عمل کرو۔
3۔موقع سے بولو اور منسب کفتگو کے لیئے لب کشائی کرو۔
4۔ہر قسم اور ہر طبقہ کے لوگوں کو پہچانو اور ان کے ساتھ مناسب برتاؤ کرو۔
5۔اپنا راز کسی پر عیاں نہ کرو۔
6۔دوستوں کو مصیبت کے وقت آزمالو۔
7۔دوستوں کا امتحان فائدہ اور نقصان دونوں حالتوں میں  لے لو۔
8۔ہر شخص کے حق کو پہچانو۔
9۔نافہم عورتوں پر بھروسہ مت کرو۔
10۔ عورتوں اور بچوں سے راز کی بات مت کرو اور کسی کی چیز میں طمع و لالچ مت کرو۔
11۔جو نہ چاہتے ہو اس میں راہبری کی کوشش نہ کرنا۔
12۔اپنے کاموں کو سوچ سمجھ کر کرو۔
13۔اپنے بچوں کو تیر اندازی اور گھڑ سواری کی مشق کراؤ۔
14۔رات کو آہستہ آہستہ بات کرو تاکہ تمھارا کوئی دشمن تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔
15۔اپنی اولاد کو علم و ادب سکھاؤ۔
16۔ہر شخص کی مناسبت سے اس کا کام اور اس کی خدمت کرو۔
17۔قوم و ملت اور جماعت سے میل جول رکھو۔
18۔اپنے کپڑوں کو پاک و پاکیزہ رکھو۔
19۔جب گھر میں داخل ہو تو آنکھ اور زبان پر قابو رکھو۔
20۔مہمان کی اپنی حیثیت کے مطابق ضرور خدمت کرو۔
21۔سخاوت کی عادت ڈالو۔
22۔ اپنے ہر کام میں میانہ روی اختیار کرو۔
23۔خرچ کرتے وقت اپنی آمدن کا لحاظ رکھو۔
24۔استاد کو بہترین باپ سمجھو۔
25۔کم کھانے، کم بولنے اور کم سونے کی عادت ڈالو۔
26۔جو اپنے لیئے پسند نہ کرو اسے دوسروں کے لیئے بھی پسند نہ کرو۔
27۔دن میں چوکنے ہو کر بات چیت کیا کرو۔
28۔اپنی زبان کو ہمیشہ قابو مین رکھو۔
29۔بیہودہ کوئی سے پرہیز کرو۔
30۔کسی کولوگوں کے سامنے شرمندہ نہ کرو۔
31۔لوگوں کے سامنے انگڑائی نہ ہو۔
32۔بےخطا اور بے  گناہ کو خطاوار اور گنہ گار نہ ٹھہراؤ۔
33۔اپنے مال کو چھپاؤ اور اسے دوست دشمن کے سامنے نہ لاؤ۔
34۔ماں باپ کے وجود کو غنیمت اور نعمت جانو۔
35۔دوست اور دشمن دونوں سے خندہ پیشانی سے رہو۔
36۔اپنے مخلص دوستوں کو دل سے دوست رکھو۔
37۔جوانی میں ایسے کام کرو جو دین و دنیا دونوں میں مفید ثابت ہوں۔
38۔عہد جوانی کو غنیمت جانو۔
39۔ جو بات کہو وہ نپی تلی اور پُر از دلیل ہو۔
40۔اصلاح پسند اور عقل مند لوگوں سے مشاورت کرو۔
41۔اچھ کاموں میں پوری سعی کرو۔
42۔خرد مند اور ہوشیار لوگوں سے میل جول رکھو۔
43۔ احمقوں سے دور رہو۔
44۔ عام لوگوں کو اپنے سے گستاخ نہ ہونے دو۔
45۔آج کا کام کل پر مت چھوڑو۔
46۔کسی حاجت مند کو نا امید مت کرو۔
47۔ گزری ہوئی کشیدگی کو تازگی نہ بخشو۔
48۔بزرگوں سے زیادہ تقرار مت کرو۔
49۔اپنے سے بڑوں کے ساتھ مذاق اور خوش طبعی مت کرو۔
50۔بزرگوں کے آگے آگے مت چلو۔
                                  امید ہے آپ کو یہ انتخاب پسند آیا ہو گا اور آپ کو بہت سی نئی باتوں کا پتہ چلا ہو۔اور تمام دوستوں سے التماس ہے کہ آپ کو جو بھی نصیحت اچھی لگی ہو اسے دوسروں تک پہنچائیں تاکہ اور لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچ سکے۔حضرت لقمان ؑ کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں ابہام پایا جاتا ہے۔قرآن کی  پاک کی سورۃ لقمان ہی واحدایسا مستند  ذریعہ ہےجس سے ہمیں ان کے بارے میں صحیح معلومات ملتی ہیں۔اسی وجہ سے میں نے اس  کتابچے میں سورۃ لقمان  کو اس کی تفسیراور اردو ترجمعہ کے ساتھ پیش کیا ہے جو کہ تفسیر عثمانی سے لیا گیا ہے۔
تفسیر عثمانی جناب  حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے لکھی ہے۔عثمانی صاحب دنیا کے ایک نامور عالم دین،پاکستان شریعہ ایپلٹ کورٹ کے سابق جج اور  جامعہ دارالعلوم کراچی کےصدر ہیں۔ اللہ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے آمین۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں